کاجو۔۔ایک مفید میوہ

کاجو کی خصوصیات 

کاجو کا درخت Anacardiaceae خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ سدا بہار درخت ہے جو 12 میٹر تک بلند ہوتا ہے۔ اس کا پھل گردے کی شکل کا بیج ہوتا ہے اور یہ 3 سینٹی میٹر لمبا اور 1.2 سینٹی میٹر چوڑا ہوتا ہے۔  یہ تجارتی مقاصد کے تحت ہندوستان اور برازیل میں بکثرت کاشت کیا جاتا ہے۔
کاجو سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی خشک میوہ جات کی بہار آجاتی ہے۔ یہ میوے مختلف قسم کی نمکین اور میٹھی ڈشز میں استعمال ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں خشک میووں میں چکنائی اور حرارے بہت زیادہ ہوتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ خشک میوے اگر اعتدال سے استعمال کیے جائیں تو بے حد فائدہ دیتے ہیں۔ اگر ہم گری دار میووں کا استعمال ترک کر دیں گے تو پھر ہم پروٹین، معدنیات اور  حیاتین سے محروم ہو جائیں گے۔
سردیوں کے موسم میں ہمیں اپنی صحت کی بہتری کے لیے خشک میوے ضرور استعمال کرنے چاہییں۔ان گری دار میووں میں ایک خوش ذائقہ میوہ کاجو بھی ہے۔ کاجو جنوبی بھارت کے جنگلوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کے درخت کی بلندی دس سے بارہ میٹر تک ہوتی ہے۔ کھانے میں بادام سے مشابہت رکھتا ہے اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔ بس یہی کاجو کا بیج ہے۔ 
اس کے چھلکے سے تیل نکلتا ہے۔ اس کا رنگ سیاہ اور مزا تلخ ہوتا ہے۔
کا جو میں  گائے کے قیمے جتنا فولاد ہوتا ہے۔اسے کھانے سے جسم میں خون کی کمی دور ہو جاتی ہے۔ کاجو میں جست بھی پایا جاتا ہے جو جسم کی معمول کی افزائش کے لیے مفید ہے۔ یہ جسم کے مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے۔ تاہم ہائی بلڈ پریشر یا دل کے مریض افراد نمکین کاجو سے پرہیز کریں۔ کاجو میں تانبا اور مینگنیز بھی خوب ہوتا ہے۔ ہہ پٹھوں کے لیے اچھا  ہے کیونکہ اس میں فاسفورس مینگنیزیم  اور وٹامن  بی ہے۔ 
اس سے جسم کی تھکن دور ہوتی ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کاجو اور دیگر گری دار میووں کے استعمال سے وزن کم کرنے میں مد ملتی ہے۔ حالانکہ اس میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے۔ سو گرام کاجو میں 600 حرارے اور 60 گرام چکنائی ہوتی ہے۔ کاجو کے استعمال  تمام  عمر کے افراد کے لیے مفید ہے۔کاجو کے پھل کا رس ورم میں ہونے والے درد کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔  اس کا مغز دانتوںکی جڑوں کو ہونے والے درد سے آرام دیتا ہے۔ کاجو خوش ذائقہ ہونے کی وجہ سے مختلف کھانوں اور آئس کریموں میں استعمال ہوتا ہے۔۔
لیکن  کسی بھی چیز کو مناسب مقدار میں ہی کھانا چاہیے۔اعتدال  پسندی ہی اچھی صحت کی ضمانت ہے۔ خشک میوے بھی قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔
Google lmage 

No comments:

Post a Comment