غریب کی لڑکی ؛-
ایک دوست کہنے لگا کہ میرا رشتہ ہوگیا ہے مگر میں نے وہ رشتہ توڑ دیا ہے ۔
میں نے پوچھا کہ کیوں توڑا رشتہ ؟
کہنے لگا کہ میرے ابو رمضان میں بیمار ہوے تھے تو میرے سسرال والے عیادت کے لیے آۓ تھے مگر کچھ لاۓ نہیں نہ پھل نہ ہی کوئی روپیہ پیسہ دے کر گۓ ۔۔
میرے باپ نے کہا کہ آج یہ لوگ ایسے ہیں تو کل کیا کریں گے مطلب نہ عیدی نہ شب بارات دن گے .اس لئے میں نے رشتہ ہی توڑ دیا ۔۔۔
۔۔۔
مگر میں نے کہا کہ یار یہ بتاٶ کہ اس لڑکی کے گھر والوں کے حالات کیسے تھے ۔۔
کہنے لگا کہ بہت غریب لوگ ہیں کام کاج کرتے ہیں تو دو ٹایم کی روٹی با مشکل کھاتے ہیں ۔۔
۔۔۔
میں نے کہا کہ میرے بھائی جب آپ ان کی غربت کے بارے میں سب جانتے ہیں ۔۔
تو کیا آپ یہ جانتے ہیں جس سے رشتہ توڑا ہے ان ماں باپ پہ کیا گزری ہوگی ؟ ۔۔
اس بیچاری لڑکی پہ کیا گزری ہوگی کہ مجھے غربت کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا ۔
یا ر میرے ابو کہتے ہیں کہ اب رشتہ امیر گھرانے میں کرواؤں گا جو جہیز ، شب برات عید سب دے سکیں جو تمہیں کاروبار سیٹ کروا سکیں
میں مسکرایا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ تمہارے ابو کہتے ہیں یا تمہارا دل کہتا ہے ۔۔
جاؤ یار جو اپنے زور بازو پر یقین نہ کر سکے وہ دوست تو کیا انسان کہلانے کے لائق بھی نہیں
آج اگر بیٹی والوں کا رشتہ ٹوٹ جاۓ تو لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ شاید ان کی بیٹی میں کوئی خامی ہے ۔۔
اگر بیٹے والوں کا رشتہ ٹوٹ جاۓ تو وہ فخر سے کہتا ہے یار مجھے پسند نہیں تھی میں چھوڑ دیا ۔۔۔
خدارا بیٹی والوں پے ایسا ظلم نہ کریں میرے پوسٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو لڑکے ابھی جوان ہیں وہ کبھی بھی کسی لڑکی کو اس کی غربت پہ نہ چھوڑین نہ اس کے جزبات سے کھیلیں ۔۔
یہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ہمیں دنیا میں لائی اور یہ عورت ہی وہ ہستی ہے جس کے قدموں سے ہمیں جنت ملے گی بس روپ بدل لیتی ہے ماں کا بیوی کا بہن کا مگر ہوتی تو عورت ہی ہے.
منقول
No comments:
Post a Comment