.گھاٹے کا سودا
وہ بڑا نامی گرامی شاعرتھا ،لیکن اب بڑھاپے کے نرغے میں آگیا تھا،اس نے ساری زندگی گمراہی میں بسر کردی تھی مگر اب اچانک اس کے ارمانوں میں اسلام کی شمع جلنے لگی،وہ یمامہ سے نکلا۔ نبی ﷺ سے ملاقات کے لیے چلا تاکہ اسلام قبول کرلے، اس نے اپنی سواری کا رُخ مکہ کی طرف موڑ دیا،*
وہ بہت خوش تھا کہ اب نبی آخر الزمان ﷺ سے ملاقات ہوگی، وہ اپنی دھن میں چلاپ جارہا تھا ۔جوں جوں وہ صحرا کے نشیب و فراز عبور کرتا جا رہا تھا ،نبی ﷺ کی محبت اور آپ سے ملاقات کا جذبۂ بے تاب بھی بڑھتا جارہا تھا،
*اس نے بتوں کی پوجا چھوڑنے اور اسلام قبول کرنے کا پکا عزم کر لیا تھا،وہ مدینۃ الرسول کے پاس پہنچا تو مشرکین کے کچھ لوگوں نے اُسے روک لیا،پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ بوڑھے شاعر نے صاف بتا دیا کہ میں پیغمبرِ رحمت ﷺ سے ملنے جارہا ہوں اور اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں
مشرکین کو خطرہ لاحق ہوگیا کہ اگر یہ شاعر امسلمان ہوگیا تو اپنی شاعری کے ذریعے سے لوگوں کے جذبات بھڑکائے گا ،لوگوں کو ہمارے معبود کی عبادت سے روکے گا۔اس طرح محمد (ﷺ) کہ دعوت مزید مضبوط ہوجائے گی۔ہمیں تو ایک شاعر حسان بن ثابت( رضی اللہ عنہ) ہی نے پریشان کر رکھا ہے،اس اکیلے نے نجانے کتنے لوگوں کے دل اسلام کی محبت سے گرما دیے ہیں۔ اگر عرب کا یہ نامور اور بے مثال شاعر بھی مسلمان ہوگیا تو ہمیں ناکوں چنے چبوا دے گا۔مشرکین مکہ عرب کے اس بوڑھے شاعر" اعشیٰ بن قیس" کو روکنے لگے اور اسے اپنے آباءواجداد کی غیرت دلانے لگے اور کہنے لگے.
اعشیٰ! تمہارا دین اور تمہارے باپ دادا کا دین سب سے بہتر دین ہے۔ اعشیٰ نے جواب دیا: نہیں ﷺ محمد(ﷺ) کا دین ہی بہتر اور سچا دین ہے۔وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔پھر انہوں نے ایک اور حربہ اختیار کیا۔بوڑھے شاعر کو ورغلانے اور اسلام قبول کرنے سے روکنے کے لیے ایک اور حربہ اختیار کیاَانہوں نے کہا.
اعشیٰ! محمد (ﷺ) زنا کو حرام قرار دیتے ہیں۔اعشیٰ: میں بوڑھا ہوچکا ہوں، اب مجھے عورتوں سے کیا واسطہ!مشرکین: وہ شراب کو بھی حرام کہتے ہیں۔اعشیٰ:شراب تو عقل کا خاتمہ کر دیتی ہے، اچھے بھلے آدمی کی رسوائی کا سبب بتنی ہے۔ مجھے شراب کی ضرورت نہیں۔جب انہوں نے دیکھا کہ اعشیٰ عزم ِصمیم کرچکا ہے اور اپنے ارادے سے ٹلنے والا نہیں تو انہوں نے ایک اور شیطانی ہتھکنڈا اختیار کیا۔ وہ اُسے لالچ دینے لگے۔کہنے لگے.
ہم سو اونٹ دیتے ہیں تم اسلام کا ارادہ چھوڑ دو اور اپنے گھر کی راہ لو۔کیچڑ میں ہاتھی بھی پھسل جاتا ہے۔مشرکین نے اسلام کی راہ سے ہٹانے کے لیے مال کی چمک دکھائی تو بڈھا شاعر پھسل گیا، اس نے غور و فکر شروع کر دیا۔ یہ تو بہت بڑی دولت ہے،شیطان نے اس کی عقل پر پردے ڈال دیے۔اعشیٰ بن قیس نے مشرکین کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا: یہ تو تم نے بہت اچھی بات کہی۔لاؤ! میں تمہاری پیشکش قبول کرتا ہوں۔ انہوں نے سو اونٹ اکٹھے کیے اور اعشیٰ کو دے دیے۔*
وہ سو اونٹ لے کر حالتِ کفر ہی میں اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ اونٹوں کا ریوڑ ہنکائے لیے جارہا تھا اور بڑا خوش تھا،دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ میں نے شاعری کے ذریعے سے بڑی دولت جمع کر لی ہے، اب میں بڑا مالدار ہوگیا ہوں، مجھے کسی کی محتاجی نہیں رہی۔لیکن یہ بھول گیا کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کی گھاٹ میں ہے اور ہر دم دیکھ رہا ہے کہ وہ کس طرح دنیا کے گھٹیا سامان کے عوض اللہ کی نافرمانی کررہا ہے۔حالانکہ زمین و آسمان کے سارے خزانے اللہ ہی کے پاس ہیں۔اب آگے کی سنیے.
بڈھا شاعر کشاں کشاں اپنے گھر کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اچانک اونٹنی سے گر گیا... اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہیں سسک سسک کر مر گیا۔ اونٹوں کا ریوڑ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ اس نے اپنی دنیا بھی گنوا دی اور آخرت بھی برباد کرلی۔افسوس! اُس انسان پر جو اللہ کے راستے سے بھاگے اور دنیاوی چمک دمک پر ریجھ کر گھاٹے کا سودا کرے۔ملال یہ ہے کہ ایسا اکثر ہوتا ہے۔بسا اوقات انسان حق کو پہچان لیتا ہے اور اس کی پیروی کا شوق بھی رکھتا ہے ۔لیکن اس دنیا فانی کے عارضی فائدے کی خاطر دھوکے میں آجاتا ہے،اور اپنے رب کی نافرمانی پر اٹا رہتا ہے۔ دنیا کا کروفر،شان و شوکت اور بری صحبت دین پر استقامت اختیار کرنے کی راہ میں آڑے آجاتی ہے۔ وہ دنیا کی پرکشش چیزوں کی طرف لپک پڑتا ہے اور موت کا بے رحم ہاتھ اس کی گردن دبوچ کر اُسے قبر کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے۔کاش! نادان انسان یہ حقیقت سمجھ لے کہ آخرت کی زندگی اور اس کی نعمتیں بے مثال ہیں اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں۔
کتاب: روشنی کے سفر
No comments:
Post a Comment