ہم کون ہوتے ہیں کسی کی نییت کا فیصلہ کرنے والے وہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے



سبق آموز تحریر

 ہم کون ہوتے ہیں کسی کی نییت کا فیصلہ کرنے والے 


کچھ باتیں لکھنے اور پڑنے میں بڑے کام کی لگتی ہیں لیکن ان کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ایسے ہی ایک بات جو بہت مشہور ہے اور پڑنے اور سننے میں بڑے کام کی لگتی ہے
جیسے یہ بات
چھوڑ دے گن گن کے پڑنا تسبیح کو
اس سے کیا حساب جو بے حساب دیتا ہے
جس کو میری بات پے اعترض کرنا ہےکر سکتاہے لیکن دلیل کے ساتھ
ایسا کہنا غلط ہے کیونکہ جب بھی کوئی تسبیح پے گن کے پڑتا ہے تو اس کا ہر گیز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مجھے اللہ نے نعمتں عطا کی اور اس کا میں گن گن کے شکر ادا کروں مثلا اللہ نے مجھے زندگی دی اس کے بدلے میں اتنی دفعہ یہ کلمہ پڑنا ہے مجھے اس نے ہاتھ دیے ان کے بدلے یہ پڑنا ہے مجھے اس نے فلاں نعمت دی اور اب اس کےبدلے اتنی بار فلاں ورد پڑنا ہے ایسا ہر گیز نہیں اور نہ ہی دیکھا کے پڑنا کوئی مقصد ہوتا ہے ہو سکتا ہے کوئی دکھاوے کی نییت سے تسبیح ہاتھ میں پکڑ لے لیکن ہم کون ہوتے ہیں کسی کی نییت کا فیصلہ کرنے والے وہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے

اور حدیث سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ جس نے فلاں کلمات دن میں اتنی دفعہ پڑے اس کے لیے یہ اجر ہے وغیرہ تو اسلام تو خود اجازت دے رہا ہے گن کے پڑنے کی تو ہم کون ہوتے ہیں اس کو غلط کہنے والے
حدیث میں کتنی بار آیا ہے کہ نماز کے بعد فلاں کلمات اتنی بار پڑھو تو اتنا ثواب فلاں پڑھو تو اتنا اور تم کہتے ہو گن کہ نہ پڑھو
اب سوال یہ ہے تسبیح ہاتھ میں پکڑنی لازمی ہے کیا اس کے بنا بھی تو زکر ازکار ہو سکتے ہیں یا گن گن کے پڑنا لازمی ہے کیا
تو جواب یہ ہے آپ خود تجربہ کر کے دیکھ لیں ایک دن ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر اللہ کا زکر کریں اور اکاوئٹ کرتے جائیں آپ نے کتنی بار ایک دن میں کیا اور ایک دن اپ بنا تسبیح کے زکر کریں آپ کو خود اندازہ ہو جاے گا بنا تسبیح کے اور تسبع کے ساتھ کتنا فرق آیا

ہوتا یہ ہے جب آپ تسبیح کے بنا زکر کرتے ہیں تو آپ کا زہین تھوڑی دیر بعد کہیں چلا جاتا ہے شیطان اپ کے زہین میں ایسے خیال ڈال دیتا ہے اپ کو پتا بھی نہیں چلتا اور آپ زکر کرنا چھوڑ چکے ہوتے ہیں کافی دیر بعد آپ کو یاد آتا ہے میں تو زکر کر رہا تھا اپ دوبارہ شروع کرتے ہیں تھوڑی دیر بعد پھر ویسا ہی ہوتا ہے
لیکن جب اپ ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر زکر کریں گے تو اگر شیطان اپ کے زہین میں کوئی بات ڈالے گا بھیتو جلدی ہی اپ کو اپنے ہاتھ میں کچھ محسوس ہو گا جس سے اپ کو لگے گا کہ اپ زکر کر رہے تھے اور اپ پھر اسی وقت زکر کرنے میں مصرف ہو جائیں گے

اس کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کچھ لوگوں نے دن میں کچھ خاص زکر ایک مقدار میں کرنے ہوتے ہیں تو اس سے ان کے زکر بھی پورے جاتے ہیں اگر وہ تسبیح کے بنا کریں تو شاید آدھے بھی نہ کر پائیں اس طرح کم سے کم ان کی زبان تو زکر میں مصرف رہتی ہے اور وہ ہر حال میں اللہ کا زکر کرتے ہیں جو ان کی روٹین ہوتی ہے اس سے دل میں دنیاوی خیال بھی کم ہو جاتے ہیں اور اللہ سےمحبت بڑھ جاتی ہے اور

تسبع کا سب سے بڑا فائدہ
زکر کر کر کے ایک دن وہ آتا ہے اس کی زبان زکر کی اتنی عادی ہو جاتی ہے کہ پھر وہ تسبع پکڑے یا نہ پکڑے یہاں تک کہ اس کازہیں کہیں اور ہوتا ہےلیکن اس کی زبان اللہ کے زکر میں مصروف ہوتی ہے
اب ہو سکتا ہے کوئی یہ بھی کہےکہ اسطرح تو لوگ اچھا سمجھیں گے ریاکار سمجیں گے تانے دیں گے بڑا پرہیزگار بنا پھرتا ہے
تو پہلی بات اپ کا کیا دل کرتا ہے کہ لوگ اپ کو بورا سمجھں اچھا سمجتے ہیں تو سمجھنے دیں اپ دل میں کہہ لیا کرو اے اللہ توجانتا ہے میری جو بھی اوقات ہے 
اور جب کوئی طعنہ دے تو کہہ دیا کرو میں واقع گنہگار ہوں دعا کرو اللہ میرے گناہ معاف فرمائیے جب ایک دو بار اپ بڑے تحمل سے اچھے لہجے میں ان کو یہ جواب دیں گے تو وہ خود ہی شرمندہ ہو جائیں گے اور طعنہ دینا بند کر دیں گے

No comments:

Post a Comment